Thursday, 15 November 2018

Wilayah (Muslim Sainthood) Upon the Pattern of the Israelite Minor Prophethood (Urdu)

بسم الله الرحمن الرحيم
والصلاة والسلام على خاتم النبيين
وعلى اهل بيته الطيبين الطاهرين المظلومين
والعاقبة للمتقين
 
امّت مسلمہ پر اگر وہ نعمتیں الہی نہیں ہیں جسکے ساتھ پچھلی امّت یعنی اسرائیل نوازیں کیے گے تھے تو اسکا صاف مطلب ہے کہ اسرائیل اور قوم موسی علیہ السلام امّت محمدی پر افضلیت رکھتی ہے۔ اللہ جلّ جلالہ فرماتا ہے کہ نبوّت ایک شاندار نعمت ہے۔ جب سیدنا ونبینا کلیم اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے خوش قسمت قوم کو اطلاع دی کہ
يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ
اے میری قوم! تم اپنے اوپر ﷲ کا وہ انعام یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء پیدا فرمائے
سو حضرت کلیم اللہ علیہ السلام کے مطابق نبوّت اوّل درجہ کی نعمت الہی ہے جو کسی قوم کو دیا جاسکتا ہے۔ علماء اسلام جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں اللہ جلّ شانہ نے انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث کیے تھے لاکھوں کے تعداد میں۔ بے شک امام الانبیا صلوات اللہ وسلامہ علیہ کی بعثت نہ کہ صرف سب سے بڑی نعمت ہے بلکہ آپ علیہ السلام کا اس دنیا میں آنا باقی تمام انبیاء علیہم السلام کے آنے سے اعلی شان بات ہے۔ مگر پھر بھی یہ ایک لائق غور کرنی والی بات ہے کہ اسرائیل میں کثرت کے ساتھ نبی ایے تھے اور اس امّت کے لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ فقط ایک نبی ہے۔ ہم تو بولتے ہیں کہ جس طرح ہمارا رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ اشرف الرسل ہے اسی طرح آپکی امّت خیر الامّم ہے۔ ہم کیا یہ تو اللہ احکم الحاکمین کا فیصلہ ہے
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی ہے
اگر یہ کہا جائے کہ اس امّت کے لیے ایک ہی نبی کافی ہے کیونکہ اب اگر کوئی اور نبی ایے گا تو وہ ایک دوسری شریعت کے ساتھ مبعوث ہوگا تو کیا یہ سچ نہی ہے کہ سیدنا موسی کلیم اللہ علیہ وعلی نبینا الصلوات والتسلیمات کے بعد جتنے انبیاء علیہم السلام اسرائیل میں ایے تھے وہ سب شریعت موسوی کے تابع تھے؟ یعنی ما سوا اسکے کہ شریعت ایک تھی اللہ پاک نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اور  ان میں بطور نعمت نبی در نبی بھیجا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ختم نبوّت کی وہ مفہوم جو اکثر علماء لیتے ہیں اسکا نتیجہ یہ نکلتی ہے کہ امّت موسی امّت محمّد پر افضل ہے۔ سو اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ختم نبوّت کا مفہوم کچھ اور ہے۔ ایسا مفہوم جس میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ رسالت مآب صلوات اللہ وسلامہ علیہ آخری نبی ہے مگر آپکی امّت کو وہ وہ بڑی انعام حاصل ہے جو اسرائیل کو عطا ہوا لہاذا کم ا‌‌ز کم یہ نہی کوئی کہسکتا ہے کہ امّت موسی کو امّت محمّد پر فوقیت حاصل ہے۔ سو میں کہتا ہوں کہ ختم نبوّت کا یہ مفہوم اخذ کرو کہ اگرچے سیدنا محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہی آسکتا حقیقی معنا میں مگر آپکی امّت میں ایسا شاندار سلسلہ ہے جو اسرائیلی نبوّت کا مِثل ہے۔ ہمارے صوفیاء کرام اس سلسلہ کو ولایت کہتے ہیں۔ اصل میں اسکا نام سلسلہ ولایت محمّدی ہے۔ اور یہ ولایت ایک ایسی سلسلہ ہے جو نبوّت صغری  کی وزن پر رکھی گئے۔ نبوّت صغری سے مراد وہ غیر تشریعی نبوّت ہے جو وفات موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں موجود تھی۔ مگر اسکا یہ مطلب نہی ہے کہ سیدنا موسی علیہ السلام کے بعد اسرائیل میں صرف نبوّت صغری رہی تھی بلکہ کچھ بڑے پیغمبر بھی آیے تھے جنکے ذکر قرآن مجید میں ہے جیسے داوود خلیفۃ اللہ اور عیسی روح اللہ علیہما وعلی نبینا الصلوات والتسلیمات۔ ان دونوں پر کتاب بھی نازل ہوے یعنی زبور اور انجیل۔ مگر تھے شریعت موسوی کے تابعدار۔ سو امّت محمّدی میں نبوّت صغری اسرائیلی کی وزن پر سلسلہ ولایت رکھی گئی لیکن جیسے قوم موسی میں وفات موسی کے بعد ایک بڑا پیغمبر یعنی مسیح ناصری علیہ السلام آیا تھا اور وہ شریعت موسوی کے پابند تھے اسی طرح اس امّت میں بھی ایک ایسا مسیح کا آنا لازمی ہے جو نہ کہ صرف ولی بلکہ حقیقی معنا میں نبی ہوگا ورنہ حساب پھر الٹ ہوگا۔ سو یہ بات ثابت ہے اور اچھی طرح ثابت ہے کہ پیارے محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح ابن مریم کا آنا کا بشارت دی تھی۔ پس یہ کیسی مبارک امّت ہے جس کی ابتدا میں امام الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہ اکمل کتاب و شریعت کے ساتھ مبعوث کیے گے، اور جس کی اندھر ایسی سلسلہ ولایت ہے جو نبوّت صغری فی بنی اسرائیل کی وزن پر رکھی گئی اور جس کی انتہا میں ایک حقیقی نبی ظاہر ہونگے جو شریعت محمّدی کی متابع اور داعی بھی ہونگے۔ سلسلہ ولایت محمّدی میں سے جو سب سے اکمل ولي ہے وہ آنے والا مہدی موعود ہے۔ چنانچہ رسول خدا علیہ الصلاۃ والسلام سے یہ خوش خبری منصوب ہے کہ
كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا أَوَّلُهَا وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ آخِرُهَا , وَالْمَهْدِيُّ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي وَسَطِهَا
سلسلہ ولایت محمّدی کی مزید تفصیل میں عرض یہ ہے کہ اس میں درجہ بندی ہے۔ میرے تحقیق کی مطاب امّت میں سب سے افضل ولي صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہے۔ مگر اگر یہ کہا جائی کہ یہ مرتبہ امام مہدی علیہ الرضوان کا ہے تو یہ بھی ایک مدلّل موقف ہے جو قابل احترام ضرور ہے۔ افضلیت کی بحث ایمانیات سے خارج ہے، سو اس پر کوئی وعید نہی ہے۔ ہاں، یہ حق ہے کہ صدیقیت کی مقام نبوّت کی بعد سب سے اعلی مقام ہے، اور اس مقام پر سیدنا ابو بکر اور مہدی موعود دونوں فیض ہیں۔ ان صدیقین کو اسرائیل کے چھوٹے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ تشبیہ دینا درست ہے۔

No comments:

Post a Comment

Taliban, Huthis and Near Future Emergence of the Mahdi

  بسم الله الرحمن الرحيم الصلاة والسلام على سيد المرسلين وعلى اهل بيته الطيبين الطاهرين The changes to the geopolitical chessboard is acc...